Monday, November 8, 2021

پاکستان میں مہنگائی کی وجہ سے عوام کی زندگی میں مشکلات ہیں مگر ہمارے پاس رستہ کیا ہے؟


 اکثر لوگوں کو کہتے سنا ہے کے یورپ یا امریکہ کی مثال مت دو وہاں کمائی زیادہ ہے لیکن کوئی آپکو یہ نہیں بتاتا جہاں کمائی زیادہ ہے وہاں خرچے بھی زیادہ ہیں ایسے لوگوں کو بھارت اور بنگلہ دیش کی مثال دو تو پھر کوئی نیا بہانہ تراش لیتے ہیں بھارت میں غربت 22 فیصد ہے پاکستان میں 5 فیصد سے کم بنگلہ دیش میں 12 فیصد غربت ہے لیکن آج پٹرول بنگلہ دیش اور بھارت سے بھی سستا ہے کھانے کا تیل بھی ان دو ممالک سے سستا ہے انگلینڈ کی کمائی کی بات اکثر کرتے ہیں آج آپکو بتاتا ہوں وہاں خرچے کتنے ہیں اور یہ میں کم از کم خرچے بتا رہا ہوں ایک عام سے قصبے میں لندن شہر کی بات نہیں کر رہا جن کو نیا نیا پر کیپیٹا پتہ چلا ہے انہیں بتاتا چلوں انگلینڈ میں نان 200 روپے کا سالن کی ایک بڑی پلیٹ 2000 روپے کی پیٹرول 360 روپے لٹر دو کمروں کے گھر کا کرایا لاکھ روپے سے اوپر، مرغی کا گوشت 1200 روپے کلو، چھوٹا گوشت 2800 روپے کلو انڈے750 کے درجن۔ جہاں کمائی زیادہ وہاں خرچے زیادہ برطانیہ میں 870 ارب پاؤنڈ سالانہ ٹیکس لیتے ہیں پاکستان کی 74 سال اتنا ٹیکس نہیں جتنا وہ ایک سال میں ٹیکس لیتے ہیں ایسا دنیا کی تاریخ میں نہیں ہوا کہ پہلے سہولیات ہوں پھر ٹیکس ملے پہلے ٹیکس ہوتا ہے اس سے پیسہ جمع ہوتا ہے اور اس پیسے سے حکومت سہولیات دیتی ہےاگر آپکی لاٹری لگ جائے جوئے میں جیت جائیں کوئی خزانہ ہاتھ لگ جائے اسکے علاوہ کوئی راتو رات امیر ہوسکتا ہے؟ پاکستان میں 74 سال سے کمائی کم ہے لیکن اچانک 100 سال کا سب سے بڑا بحران آگیا اب مہناگئی کا طوفان ہے تو اچانک کیسے کمائی ڈبل ٹرپل ہوسکتی ہے؟ پاکستان کی کوئی لاٹری لگ گئی؟ کوئی خزانہ ہاتھ لگ گیا ہے؟ ایک قرضوں میں ڈوبا ہوا ملک جسے غلام بنائے رکھنے کیلئے امریکہ کا دباؤ بھی ایسے میں کمائی آہستہ آہستہ ہی بڑھے گی ملکی دولت بڑھے گی تو حالات ٹھیک ہونگے 8 سال بعد ایکسپورٹ بڑھ رہی ہیں یہ کمائی کا ذریعہ ہے، ٹیکسٹائل انڈسٹری میں 3 ارب ڈالر کی کپیسٹی جنوری سے شامل ہو رہی ہے 100 نئے کارخانے لگے ہیں لاکھوں لوگوں کا روزگار پیدا ہو رہا ہے پاکستان میں جب 2018 میں نئی حکومت آئی تو 71 برس کے بعد ٹوٹل قومی خزانے میں 8 ارب ڈالر پڑے ہوئے تھے جبکہ 100 ارب ڈالر کا قرض تھا اور 20 ارب ڈالر کا خسارہ تھا ۔۔ 8 ارب ڈالر کتنا ہوتا ہے اندازہ لگانے کے لئے ملک ریاض کو جرمانہ 3 ارب ڈالر ہواتھا اور پاکستان کے 71 سال کی کل بچت 8 ارب ڈالر تھی اس میں بھی زیادہ تر شارٹ ٹرم قرض تھا پاکستان کے پاس کوئی آسان رستہ نہیں یا تو امریکہ کے پاؤں پکڑ لیں اڈے دے دیں ڈرون حملے دوبارہ شروع کروادیں پھر تو آسان شرائط پہ قرضہ مل جائے گا وقتی ریلیف بھی مل جائے گا لیکن ملک مکمل غلامی میں چلا جائے گا دوسرا رستہ یہ ہے کہ اپنی برامدات بڑھائی جائیں سب کچھ ملک میں بنایا جائے تمام کھانے پینے کی اشیاء دالوں اور کوکنگ آئل سمیت پاکستان میں پیدا کیا جائے اس کے بعد ہی پاکستان کے حالات ٹھیک ہونگے اگر یہ کام پچھلوں نے کرنا ہوتا تو 35 سال کے اقتدار میں کرتے مگر انہوں نے اس میں سے ایک کام بھی نہیں کیا حتی کے 50 سال بعد اگر ڈیم بن رہے ہیں تو وہ بھی اس حکومت میں بن رہے ہیں خوابوں کی دنیا سے باہر آئیں سچ سنیں سچ سمجھیں


Monday, March 1, 2021

Landmark Judgement By Supreme Court of Pakistan to Hold Senate Elections fairly and Free from Corruption

پاکستان کے لئے آج ایک تاریخ ساز دن ہے. 

صدر مملکت نے سپریم کورٹ سے ایک سوال پوچھا تھا کہ کیا سینٹ کے الیکشن آئین کے تحت ہوتے ہیں یا قانون کے تحت ہوتے ہیں؟ 

سپریم کورٹ نے آج اس بات کا آئین اور اپنی حدود میں رہتے ہوئے جواب دے دیا ہے اور جواب بڑا واضح ہے اور کرپٹ پریکٹسز کرنے والوں پہ بجلی بن کے گرا ہے، سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ "سینیٹ کے الیکشن آئین اور قانون دونوں کے تحت ہوتے ہیں" 

جس کا مطلب یہ لیا جائے گا کہ آئین کا اطلاق تو ہوتا ہے اس پر قانون کا اطلاق بھی ہوتا ہے 

حکومت نے ایک آرڈیننس جاری کیا تھا اس میں دو چیزیں ہیں نمبر ایک کہ بیلٹ اوپن ہو اور دوسرا ووٹ ٹریس ایبل ہو یہ جو دودسرا حصہ ہے حکومتی آرڈیننس کا سپریم کورٹ نے تقریبا اس سے متفق ہونے کا اظہار کیا ہے۔ 

فیصلے/رائے میں انہوں نے حوالہ دیا ہے کہ سپریم کورٹ پہلے بھی ایک کیس میں فیصلہ دے چکا ہے کہ سیکریسی آف بیلٹ مطلق خفیہ نہیں ہے۔ سمریم کورٹ اپنے فیصلے/رائے میں آگے چل کے یہ کہتی ہے کہ الیکشن کمیشن کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہر چیز کا استعمال کرے بشمول ٹیکنالوجی جس سے کرپٹ پریکٹسز دھاندلی کو روکنا یقینی بنایا جاسکے یہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے اور اسکیلئے ضروری ہے کہ وہ یہ سب کام کرے۔ سپریم کورٹ نے گیند اٹھا کے الیکشن کمیشن کے کورٹ میں پھینک دی ہیں۔ 

اب دیکھنا یہ ہے کہ چیف الیکشن کمشنر اس الیکشن میں یہ سب لاگو کریں گے اور قانون کو جوابدہ ہوں گے یا وہ کوئی بہانہ بنا کے ن کو جواب دے ہوں گے، آنے والے کچھ دن ہمیں بتا دیں گے۔ سپریم کورٹ کی طرف سے سب کچھ واضح ہے انہوں نے اپنی حدود میں رہ کے ایک شاندار فیصلہ دے دیا ہے 4:1 کے تناسب سے یہ فیصلہ آیا ہے جس میں جسٹس آفریدی نے اختلافی نوٹ لکھا ہے۔